28 جولائی 2012 - 19:30

‌آسام میں مسلم کش فسادات کے دوران تین لاکھ سے زائد مسلمان جان بچانے کیلئے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ مقامی انتہا پسند مسلح ہندو - قبائل مسلمانوں کی آبادیوں پر کھلے عام حملے اور قتل عام کررہے ہیں۔

ابنا: ہندوستان کی ریاست آسام میں مسلم کش فسادات میں انتہا پسند ہندو - قبائل کے ہاتھوں قتل ہونے والے مسلمانوں کی تعداد چوالیس ہوگئی۔ گجرات میں انتہا پسند ہندؤں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کے زخم ابھی بھرنے بھی نہ پائے کہ نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کا راگ الاپنے والے بھارت کی ریاست میں ایک بار پھر مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا گیا ہے۔ آسام میں سات روز سے جاری مسلم کش فسادات میں ہندو اور - انتہا پسند قبائل کی بہیمانہ کارروائیوں میں چوالیس مسلمان قتل ہو چکے ہیں، جبکہ انتظامیہ اس پر خاموش تماشائی بنی ہے۔

آسام میں مسلم کش فسادات کے دوران تین لاکھ سے زائد مسلمان جان بچانے کیلئے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ مقامی انتہا پسند مسلح ہندو اور - قبائل مسلمانوں کی آبادیوں پر کھلے عام حملے اور قتل عام کررہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں کرفیو کے باوجود  ہندوؤں نے مسلمانوں کے گھر، گاڑیاں اور اسکول نذرآتش کردیئے ہیں اور ریاست کے اکثر روڈ بلاک کردی گئی ہیں۔ 18 فروری 1983ء کو کانگریس کی وزیراعظم اندراگاندہی کے دور حکومت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انتہا پسند ہندوؤں نے دوہزار سے زائد مسلمان خواتین، بچوں اور مردوں کا قتل عام کیا۔ تاہم اس وقت بھی واقعہ میں ملوث کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا اور مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث افراد کے خلاف قائم مقدمات بھی ختم کر دیئے گئے تھے۔

.......

/169